


Fakhruddin Kaif
Poet & Writer
بانی پاکستان محمد علی جناح ایک صاحب بصیرت و کردار ہم پاکستانیوں کا املیہ ہے کہ ہامری نئی جیرنیشن اس بات سے ناواقف ہے کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا اور قائد اعظم دمحم علی جناح کو تین حمازوں پر لڑنا پڑ رہا تھا۔ ایک کانگریس جو ہندوستان َ کی تقسیم کے خالف تھی ، دومئ برطانوی سامراج جو بوجہ مسملانوں کو انکا حق نہیں دینا چاہتا تھا۔ اور سومئ نیشنلسٹ مسملان جو کانگریس کی حمبت میں پاکستان کے خالف تھا۔
پاکستان کے وجود میں آنے کی داستان ایک دو صفحات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اس لیئے ہم خمترصًا کچھ دلچسپ حقائق آپ کے سامنے النے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہامرے ذہن میں یہ بھی ہے کہ آئیر لینڈ میں نئی جرنیشن اردو سے ناواقف ہے لیکن امید کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی مشکل دور کرتے ہوئے یہ واقعات ان کے گوش گذار کردیں گے۔جن سے انہیں معلوم ہو گا کہ قا ئد کتنے صاحب بصیرت تھے۔۔۔پاکستان کے معروض وجود میں آنے کے بعد پہلے گورنر جرنل قائد اعظم دمحم علی جناح کی تقریب حلف برداری تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائرسائے الرڈ ماوئنٹ بیٹن نے اپنائیت جتاتے ہوئے کہا ‘‘ اب پاکستان بن گیا ہے۔اب آپ کو چاہیئے کہ یہاں آئین اکربی نافظ کریں کہ وہ مساوات اور بھائی چارے کی بہرتین مثال پیش کرتا ہے’’۔۔۔
قائد اعظم دمحم علی جناح نے اپنی جوابی تقریر میں ماوئنٹ بیٹن کو مونہہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی کوئی رضورت نہیں کہ ہمیں ہامرے نبیصلى الله عليه وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہی ایک ایسا آئین دے دیا تھا جو آئین اکربی سے کہیں بہرت ہے اور جو ہمیں مساوات اور بھائی چارے کا وہ درس دیتا ہے جس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی بانی پاکستان دمحم علی جناح ایک صاحب بصیرت و کردار ایسے ہی کئی مونہہ توڑ جوابات تھے جن کی بنا پر ۱۹۷۶ میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ماوئنٹ بیٹن نے قائد کی صالحیتوں اور بصیرت کا اعرتاف کرتے ہوئے کہا تھا ‘‘ میں اور میری کابینہ ہفتوں کی حمنت اور غور و فکر کے بعد جب کسی قرارداد کا مسودہ تیار کر کے اس یقین کے ساتھ کہ اب وہ اس میں کوئی خامی نہیں نکال سکے گا جناح کے سامنے رکھتے تو وہ اس کی چند سیکنڈوں میں دھجیاں بکھیرکے ہامری ہفتوں کی کاوشوں پر ّ پانی پھیردیتا ۔ اس کے اعرتاضات اتنے مدلل ہوتے کہ ہم سے جواب نہیں بن پڑتا اس وقت میرا دل چاہتا کہ کاش میں اس خشص کو گولی مار سکتا ’’۔ٓ
جب پوچھا گیا پ کہ جناح اور گاندھی کا موازنہ کیسے کرتے ہیں تو جواب تھا۔ پوری گانگریس اور گاندھی مل کر بھی جناح کا مقابلہ نہیں کر تے تھے ۔
پوچھا گیا کہ کیا جناح کی بیامری کا آپ کو عمل تھا تو بوال اگر جمھے ذرا سا بھی شبہ ہو جاتا کہ جناح اتنا بیامرہے کہ مشکل‘‘ سے ایک سال اور گذار سکے گا تو میں اس معاملے کو اتنا طول دیدیتا کہ پھر ’’پاکستان کبھی نہیں بن پاتا قائد کے صاحب کردار ہونے کا اندازہ مندرجہ ذیل اس واقعے سےلگایا جاسکتا ہے۔ اگر ماوئنٹ بیٹن کی اپنی بیوی کا معاملہ نہ ہوتا تو شائد وہ قائد کی سیاست میں اصول پسندی کا ذکر کرتے ہوئے مثال کے طور پریہ بات رضور بی بی سی کے رکارڈ پر التا کہ جب اس کی بیوی اور نہرو کے کچھ خطوط مسمل لیگیوں کے ہاتھ لگے تو جناح نے یہ کہہ کر انہیں ضائع کرا دیئے ۔‘‘ ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعامل کرنا مسملانوں کا شیوہ نہیں۔ہمیں زیب نہیں دیتا کہ وقتی مفاد کے لیئے اپنے خمالفین کی کردار کشی کریں ’’۔
We are glad that you preferred to contact us. Please fill our short form and one of our friendly team members will contact you back.